8 مئی 2011 - 19:30

مرکزی سیکرٹری تنظیم سازی علامہ شبیر بخاری نے کہا کہ پاراچنار کے مظلوم محبان اہلبیت ہم سے یہ تقاضا کر رہے ہیں کہ خدارا اپنے آپ کو متحد کرو کیونکہ تمہارا دشمن بہت منظم ہے اور تم بغیر منظم ہوئے طاقتور دشمن کا مقابلہ نہیں کرسکتے،

ابنا: انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک و قوم کے زعماءامریکی کاسہ لیسی میں اپنی تمام توانائیاں صرف کر رہے ہیں، اگر یہ حکمران سرزمین پاکستان سے مختص ہیں تو ریمنڈ ڈیوس کے رہا کرانے پر سعودی عرب سے تعلقات ختم کریں اور امریکہ کی غلامی کرنے کے بجائے اپنے ملک کے عوام کو فوقیت دیں۔اصغریہ آرگنائزیشن کے نو منتخب مرکزی صدر عبدالرزاق بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں جہاں کہیں ظلم ہو گا سرزمین پاکستان اور بالخصوص سندھ کے عوام اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کی امداد کے لئے ہمیشہ صدا بلند کرتے رہیں گے، انہوں نے کہا اصغریہ آرگنائزیشن ملت کے تمام اداروں کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھے گی۔اصغریہ آرگنائزیشن کا چوبیسواں سالانہ شیعہ شناسی کنونشن و یوم سید الساجدین بھٹ شاہ میں منعقد کیا گیا،جس میں کارکنان نے کثرت رائے سے عبدالرزاق بلوچ کو اصغریہ آرگنائزیشن کا نیا میر کارواں منتخب کیا، کنونشن میں سندھ بھر سے آئے ہوئے اصغریہ کے ممبران نے بھر پور شرکت کی، شرکائے شیعہ شناسی کنونشن سے علامہ حیدر علی جوادی، علامہ امین شہیدی، علامہ شبیر بخاری، علامہ مختار امامی، علامہ مقصود علی ڈومکی، انجینئر حسین شاہ موسوی، علامہ علی بخش سجادی، علامہ شاہد رضا کاشفی، عبدالرزاق بلوچ و دیگر مقررین نے خطاب کیا،کنونشن میں بہترین کارکردگی دکھانے والے یونٹس اور ممبران میں انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔ علامہ حیدر علی جوادی نے کہا کہ آج دنیا میں ہر جگہ ظلم و بربریت ہے، ہر طرف فسق و فجور ہے، ہر طرف فریب کاری ہے، ہر طرف دہشت گردی ہے، ان سب سے نجات کا واحد حل امت کا اسلام ناب محمدی کی طرف پلٹنا ہے، انہوں نے کہا کہ سرزمین پاکستان میں جب تک نظام تبدیل نہیں ہو گا اس وقت تک کوئی بڑی تبدیلی رونما نہیں ہو سکتی۔ علامہ امین شہیدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عصر حاضر میں ایک بار پھر قوم کو متحد و منظم کرنے کی ضرورت ہے، اس ضمن میں ملت کے اندر کام کرنے والی ہم فکر تنظیموں اور گروہوں کو تقسیم کار کے تحت ایک دوسرے سے تعاون کرنا ہو گا تاکہ مل جل کر ملک و قوم کو مشکلات کے چنگل سے نجات دلائی جا سکے، انہوں نے کہا کہ وادی مہران کے عوام وطن دوست، دیندار اور محبان اہلبیت ہیں، انہیں اس خطے میں بسنے والے مظلوم مومنین کی داد رسی کے لئے میدان عمل میں آنا ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169